Sehnsa Degree college protest reality


 گورنمنٹ ڈگری کالج سہنسہ میں طلبا اساتذہ کے خلاف احتجاج کرتے ہوے روڈ بلاک کر رکھی ہے طلبا تنظیم انجمن طلبا اسلام کا موقف ہے کہ دو پروفیسر صاحبان نے ختم نبوت صلی علیہ و آلہ و سلم کے حوالے سے ہمارا پینافلیکس پوسٹر جو کالج کے اندر لگایا گیا تھا اتارا گیا جس پر ہمارے اساتذہ ہم سے معافی مانگین جبکہ اساتذہ کی میٹنگ جو انتظامیہ کی نگرانی میں ہوئی انہوں نے اپنا موقف بتاتے ہوئے کہا کہ کالج رول ریگولیشن کے مطابق کوی تنظیم سیاسی و مذہبی اپنا اشتہار یا دیگر کوی چیز کالج کے اندر نہیں لگا سکتی جبکہ ان طلبا نے رول و ریگولیشن کی خلاف ورزی کی اور اساتذہ کے ساتھ بدتمیزی کی اور مقامی لوگوں اور انتظامیہ میں یہ تاثر پھیلایا گیا کہ اساتذہ نے توہین رسالت کی جس پر لوگوں کا ہجوم جس میں اکثریت کالج کے نوجوانوں کی شامل تھی کالج میں داخل ہو گے اور اساتذہ کو معافی مانگنے پر مجبور کیا جب کہ ہم اساتذہ ہی بچوں کو شان رسالت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم بتاتے ہیں۔ آج بھی کالج بند رہا بچوں کے والدین کو کالج بلایا گیا اور اس ایشو پر تفصیل سے بات ہوئی لیکن طلبا اپنے موقف پر ڈٹے ہوے ہیں کہ ساری غلطیاں اساتذہ کی ہین اساتذہ نے کہا ہم کسی صورت میں بھی کالج کا ماحول خراب کرنے کی کسی کو اجازت نہیں دیں جو کالج رول ریگولیشن کی خلاف ورزی کرے گا وہ اپنے آپ کو کالج سے فارغ سمجھے ۔


No comments:

Post a Comment